Breaking News
Loading...
Friday, 1 October 2021

Grief is not a disease but a channel that lets a human get closer to Allah





 مولانا رومی لکھتے ہیں کہ زخم کا سوراخ وہ دروازہ ہے جہاں سے روشنی آپ کےاندر داخل ہوتی ہے۔ دُکھ وہ ایندھن ہے جو انسان کو مالک کے قریب کرتا ہے۔ اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے۔ دکھ اس کے قرب کا ذریعہ ہے۔ غم وہ ٹانک ہے جو انسان کو دنیا اور اس کی تکلیفوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ بقول غالب


رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑی اتنی کہ آساں ہو گئیں

ایک جگہ اور فرماتے ہیںے

درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا


دنیا میں سب سے زیادہ دکھ جس جذبے کے ہاتھوں انسان نے کھائے ہیں وہ "جذبہ محبت"ہے۔ محبت میں ناکامی کا دکھ انسان کو پاگل کر دیتا ہے۔ پاگل خانوں میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو محبت میں ناکام ہوئے۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے محبت کوروگ نہیں بنایا بلکہ اس جذبے کو ایندھن کو اس توانائی کو، اس پٹرول کو، چینلائز کر لیا۔ وارث شاہ کو اگر بھاگ بھری سے جدائی نہ سہنی پڑتی تو وہ کبھی ہیر وارث شاہ جیسا شاہکار نہ لکھتے۔ ہیروارث شاہ کے بغیر پنجابی ادب ناکارہ ہے۔ مادام کیوری کو جس لڑکے سے محبت تھی اس کی ماں نے اسے دھکے دے کر گھر سے باہر نکال دیا۔ مادام کیوری نے اسے دل کا روگ نہیں بنایا بلکہ اسے آگ کی بھٹی میں جھونک دیا پھر دنیا کو تابکاری کا تحفہ دیا۔   

میلکم ایکس نے 'کالوں سے نفرت کے غم کو'،کیسے کمال انداز میں ڈیل کیا کہ ان کے لہجے کی گرج آج بھی دنیا کے دل پگھلاتی ہے۔ 

علیجہ محمد کے کام کی اصلیت سمجھ آئی تو حج سے واپس آنے کہ بعد بھی 'بریک نہیں لی' بلکہ کام کی رفتار اور بھی تیز کر دی۔

مارٹن لوتھر کنگ اپنے خواب کو حسرت بنا کہ نہیں بیٹھ گئے بلکہ ایسی خوبصورت تقریر کی سب کو ہلا کے رکھ دیا۔

ایدھی صاحب نے کچرے سے ملنے والے بچوں کا غم لے کہ ایک غزل نہیں کہہ ڈالی بلکہ انہوں نے اپنے غم کو ایک آئیڈیا میں چینلائز کیا اور عملی طور پر کر کے دکھایا۔

سینکڑوں نام ہیں جہاں اسی 'درد' نے دنیائیں تسخیر کرادیں۔

تو ثابت ہوا جذبہ عشق دو دھاری تلوار کی طرح ہے اگر آپ اس سے مثبت کام نہیں لیں گے تو یہ آپ کو کاٹ کے رکھ دے گا۔ محبت انسان کے لیے نقصان دہ کب بنتی ہے جب انسان اسے کمزوری بنا لیتا ہے۔ خدارا اسے کمزوری نہیں اپنی طاقت بنائیے۔

Next
This is the most recent post.
Older Post

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer